|
|
European Union Election Observation Mission to Pakistan 2008
|
|
انتخابی ڈھانچے اور ماحول میں موجود خاصے مسائل کے باوجود قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں مقابلے کا رجحان نظر آیا اور انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد بھی بڑھتا ہوا پایا گیا۔ یہ بات یورپین یونین الیکشن مبصر مشن کے ابتدائی تجزیے میں کہی گئی۔
""انتخابات کا دن خدشات کے برعکس کافی بہتر رہا اور ووٹرز، امیدوار، الیکشن اہلکار، زرائع ابلاغ اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کا کردار قابل ستائش رہا حالانکہ انتخابات ایسے ماحول میں منعقد ہوئے جس میں جمہوری انتخابات کے انعقاد کو قابل ذکر رکاوٹوں کا سامنا تھا""۔
یورپین یونین انتخابی مبصر مشن کے مطابق بحیثیت مجموعی پولنگ کا عمل مثبت رہا تاہم معاملاتی بے قاعدگیاں خصوصاً خواتین کے پولنگ سٹیشنز میں دیکھنے میں آئیں۔ زیادہ تر زیر مشاہدہ حلقوں میں نتائج کو اکھٹا کرنے کا عمل مثبت دیکھنے میں آیا۔ امیدواروں کے ایجنٹوں اور مبصرین کو نتائج جمع کرنے کے عمل تک مناسب رسائی نہ دی گئی ۔ بہت کم ریٹرننگ افسروں نے اپنے حلقوں کے نتائج کو تمام متعلقہ پولنگ سٹیشنوں کے نتائج کے ساتھ آویزاں کیا جو کہ شفاف انتخابات کا بنیادی تقاضا تھا۔
سرکاری افسروں کی سابقہ حکمران پارٹیوں پر نوازشیں، انتخابات میں حصہ لینے پر پابندیاں ، میڈیا پر پابندیاں اور دبائو، انتخابی مہم میں ناظمین کی مداخلت، شکایات اور اپیل کا ایسا ڈھانچہ جو مناسب داد رسی نہ کرسکے، یہ سب عوامل ان مسائل میں شامل تھے جو انتخابی ماحول اور ڈھانچے کو درپیش تھے۔ انتخابات کی تکنیکی تیاریوں میں کچھ بہتری نظر آئی تاہم ۲۰۰۲ کے انتخابات میں جن خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی ان پر کوئی خاص عمل نہیں ہوا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی خود مختاری پر عدم اعتماد موجود رہا۔
یورپین پارلیمنٹ وفد کے سربراہ رابرٹ ایونز نے کہا ""انتخابات کے اس دور میں پاکستانی عوام کی جموریت اور قانون کی بالا دستی سے لگن بھر پور انداز میں نظر آئی ۔ سیاسی جماعتوں سے اصرار ہے کہ وہ آنے والے دور کی مشکلات پر قابو پانے کے لیے ذمہ داری کا مظاھرہ کریں اور انتخابی سلسلے اور وسیع تر جموریت کے لیے جستجو کریں""
انتخابی مہم کے قدرے مدھم اور بے جان رہنے پرہ بہت سے خیالات کا اظہار کیا گیا۔ بدقسمتی سے بے نظیر بھٹو کے قتل سمیت بہت سی جانوں کا ضیاع ہوا۔ انتخابی مہم کے دوران میڈیا پر پابندی اور دبائو کی وجہ سے اظہار رائے کی آزادی محدود رہی۔ اگرچہ نجی میڈیا نے امیدواروں کو اچھی کوریج دی تاہم سرکاری میڈیا صرف صدر، حکومت اور پی ایم ایل ق ہی کو دکھاتا رہا اور باقی پارٹیوں پر کم سے کم توجہ دی۔ چیف مبصر مائیکل گہلر نے کہا کہ مشن اس وقت نتائج جمع کرنے کے عمل کو دیکھ رہا ہے اور یہ بعد از انتخابات معاملات، بشمول شکایات اور اپیلوں کو دیکھنے تک پاکستان میں رہے گا۔ انھوں نے نتائج کے خلاف تمام باقی ماندہ شکایات اور اپیلوں پر غیر جانبدارانہ اور شفاف طریقے سے جلد از جلد عمل درآمد کرانے کے ساتھ ساتھ تفصیلی نتائج کے اجراء کا بھی کہا۔ انھوں نے بتایا کہ انتخابی مرحلے کے دو ماہ بعد ایک حتمی رپورٹ جاری کی جائے گی جس میں مستقبل کے حوالے سے تفصیلی سفارشات شامل ہوں گی۔
}یہ ابتدایی رپورٹ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں میسر ہے لیکن صر ف انگریزی زبا ن کو ہی مستند مانا جائے۔{
یورپی یونین انتخابی مبصر مشن پاکستان 2008
رابطہ: ایتھل ہیسلیے، پریس افسر 5204677 0308
ehtel.halliste@euelectionsteam.org
|